میری اجڑی نیندیں دیکھنے والی تھیں
میں ماں کی تصویر کے آگے روئی جب
میری ماں کی آنکھیں دیکھنے والی تھیں
مجھ کو ڈولی میں بٹھا ڈر کے حوالے کر دے
میری ماں مجھ کو مقدر کے حوالے کر دے
اب یہ احساس کہ دنیا میں کوئی میرا نہیں
جانے کب مجھ کو سمندر کے حوالے کر دے
اس قبیلے سے نہیں میں کہ جو اپنی لڑکی
جنگ کے خوف سے لشکر کے حوالے کر دے
گھومنے پھرنے کا حق رکھتی ہے پھر بھی تتلی
اس لئے خود کو گل تر کے حوالے کر دے
خالی کمرے میں پڑے رہنے سے بہتر ہوگا
اے قمرؔ خود کو بھرے گھر کے حوالے کر دے
ریحانہ قمرؔ