جموں: دفاعی ماہر کیپٹن انیل گور (ریٹائرڈ) نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (انٹرنیشنل بارڈر) پر ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ان کے مطابق ڈرونز کے ذریعے منشیات، اسلحہ، گولہ بارود اور نقدی سرحد پار سے بھیجی جا رہی ہے، خاص طور پر پنجاب اور جموں و کشمیر میں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اور آئی ایس آئی اس عمل میں ملوث ہیں۔
کیپٹن گور نے کہا کہ بھارت نے لیزر، ریڈار اور دیگر جدید انسدادِ ڈرون نظام تیار کیے ہیں۔ ان کے مطابق آپریشن سندور نے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔