اننت ناگ، جموں وکشمیر (اشفاق احمد میر)
تاریخی پانزتھ چشمہ سے "وار اگینسٹ ویسٹ" مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس کا مقصد پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے، ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ قدرتی چشموں کی بحالی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ مہم "سوشل ریفارمز اینڈ کلین کشمیر" (ایس آر سی کے) اقدام کے تحت شروع کی گئی، جس کے تحت سوشل ری کنسٹرکشن سینٹر کشمیر نے لوکل یوتھ فورم پانزتھ کے اشتراک سے گاؤں پانزتھ میں ایک صفائی مہم اور اعزازی تقریب کا انعقاد کیا۔
خبر کے مطابق اس مہم کا آغاز حالیہ دنوں میں پانزتھ نالے میں مچھلیوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد کیا گیا، جس نے قدرتی آبی وسائل کے تحفظ اور بحالی کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔ صفائی مہم میں رضاکاروں، مقامی نوجوانوں اور دیہاتیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس دوران چشمے اور نالے سے بڑی مقدار میں پلاسٹک کا کچرا، جھاڑیاں اور فضول گھاس ہٹائے گئے جو وہاں کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔
اس اقدام کا مقصد نہ صرف چشمے کی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی صحت کو بحال کرنا تھا بلکہ عوام میں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار طرزِ عمل کے حوالے سے شعور بھی بیدار کرنا تھا۔ سابق ڈی ڈی سی ممبر قاضی گنڈ بلال دیوا نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ اس مہم میں بھرپور شرکت کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
مقامی نوجوانوں، رضاکاروں اور سماجی کارکنوں کی مشترکہ کاوشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کے قیمتی قدرتی چشموں اور آبی وسائل کا تحفظ آنے والی نسلوں کے لیے یقینی بنایا جائے گا۔ ایس آر سی کے، کے سکریٹری ایڈووکیٹ فاروق احمد گنائی جسے کچرا مین آف کشمیر بھی کہا جاتا ہے کے مطابق "وار اگینسٹ ویسٹ" مہم صرف ایک روزہ صفائی مہم نہیں بلکہ کشمیر کے قدرتی چشموں کی بحالی، تحفظ اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے ایک طویل المدتی مشن ہے، جس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعہ ہی ایک صاف، سرسبز اور پائیدار کشمیر کی تعمیر ممکن ہے۔