سرینگر (جاوید ڈار): جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر سید محمد الطاف بخاری نے جمعرات کو ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس (این سی) کے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے اور کہا کہ پارٹی قیادت کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
سرینگر میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ "نیشنل کانفرنس نے کہا تھا کہ احتجاج کے لیے کسی کو باضابطہ دعوت نہیں دی جائے گی اور جو بھی شریک ہونا چاہے آ سکتا ہے، جبکہ آج خود پارٹی صدر نے مختلف سیاسی جماعتوں کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔ انہوں نے این سی کی جانب سے دعوت نامہ وصول کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: "مجھے بھی دعوت نامہ موصول ہوا ہے، اور ریاستی درجہ کی بحالی ہمیشہ سے ہماری پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ریاستی درجہ میرا ایجنڈا ہے، اس لیے میں اس مطالبے پر تنقید نہیں کروں گا۔" تاہم الطاف بخاری نے نیشنل کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کے احتجاج کا اعلان دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کیے بغیر کیا گیا۔
انہوں نے کہا، "ہم مشاورت کے عمل پر یقین رکھتے ہیں، لیکن نیشنل کانفرنس نے پروگرام کا اعلان کرنے سے پہلے کسی سے مشورہ نہیں کیا۔" وزیر اعلیٰ کی جانب سے سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے الطاف بخاری نے، کہا کہ اجلاس میں شریک افراد کی شناخت پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا، "مجھے معلوم نہیں کہ سول سوسائٹی کے یہ نمائندے کون تھے۔ نیشنل کانفرنس نے ان کے نام ظاہر نہیں کیے۔"