Surprise Me!

خصوصی نوجوان شیخ زید سری لنکا وھیل چیئر کرکٹ ٹور کے لیے منتخب

2026-07-16 6 Dailymotion

بارہمولہ، جموں وکشمیر (کوثر عرفات)

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور سے تعلق رکھنے والا نوجوان شیخ زید احمد ایک ایسے باصلاحیت نوجوان ہیں جو گزشتہ سالوں سے وھیل چیئر کرکٹ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دراصل شیخ زید کے مطابق ان کو کرکٹ کے ساتھ بچپن سے کافی دلچسپی تھی لیکن جسمانی طور پر کمزور ہونے کے سبب ان کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وہ وادیٔ کشمیر کے مختلف اضلاع میں وھیل چیئر کرکٹ ٹورنامنٹ میں شامل ہوتے رہے اور اپنی محنت اور لگن سے انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی دوسری ریاستوں میں اپنا لوہا منوایا۔

ای ٹی وی بھارت کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیخ زید احمد نے کہا کہ انہوں نے آج تک جموں وکشمیر وھیل چیئر کرکٹ ٹیم میں کھیل کر کم سے کم سات نیشنل کھیلے ہیں اور اس میں نمایاں کارکردگی انجام دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایل الروڈر ہے اور انہوں نے ملک ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں جموں وکشمیر وھیل چیئر کرکٹ کی نمائندگی کی ہے اور اس میں کئی بار چمپیئن شپ بھی جیتی ہے۔ شیخ زید احمد نے کہا کہ انہوں نے کئی سالوں سے جو محنت کی ہے اس کا پھل اب جاکر ملا ہے۔ کیونکہ ان کو اب انڈین ٹیم میں جگہ مل گئی ہے اور اب ان کو سری لنکا میں اپنے ملک بھارت کی نمائندگی کرنی ہے اور وہ اس سے کافی خوش ہیں۔
زید احمد نے بتایا کہ دیویانگ کرکٹ کنٹرول بوڈ آف انڈیا کی جانب سے ان کو سری لنکا ٹور کے لیا چنا گیا ہے اور جو جموں وکشمیر وھیل چیئر کرکٹ اسوسی ایشن ہے، ہم ان کے بینر کے تلے اپنا کرکٹ کھیلتے ہیں۔ جو کامیابی مجھے ملی ہے اس سے میں کافی خوش ہوں اور میں اپنے دوستوں کے علاوہ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے مشکل وقت میں سپورٹ کیا ہے۔ زید نے کہا کہ ملک ہندوستان میں کرکٹ کافی مقبول ہے اور ہر ایک نوجوان کا سپنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے اور میں بھی خوش قسمت ہوں کہ میں اپنے جموں و کشمیر کے لیے اب سری لنکا جا رہا ہوں اور مجھ کو امید ہے کہ میں جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک ہندوستان کا نام ضرور روشن کروں گا۔ 
انہوں نے کہا کہ اکثر و بیشتر ہماری طرح کے افراد کو کمزور کہا جاتا ہے اور ہم کو سپورٹ بھی کچھ خاص نہیں ملتا۔ لیکن آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ سب مجھے اسی کرکٹ نے دیا ہے اور میں ایک دم صحت مند اور تندرست ہوں اور اس کے علاوہ میں نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کھیل کود کی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کریں اور غلط کاموں سے دور رہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ دیویانگ کرکٹ کو فروغ دینے کے حوالے سے کافی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دیگر لوگوں کو بھی مزید مواقع فراہم ہوں اور ہم ملک کے لیے اور بہتر کام کر سکیں۔