Surprise Me!

سوپور میں جل شکتی ڈویژن کے دفتر کے باہر احتجاج

2026-08-19 0 Dailymotion

بارہمولہ، جموں و کشمیر (کوثر عرفات)

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور میں جل جیون مشن کے تحت اسکیموں پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے جل شکتی دفتر سوپور کے پاس احتجاج کیا۔ انہوں نے سرکار پر الزام عائد کیا کہ زیر التوا بلوں کی ادائیگی نہ ہونے پر ان کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاج کے دوران ٹھیکیداروں نے جل شکتی ڈویژن کے دفتر کے باہر اپنا احتجاج درج کیا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے واجب الادا بلوں کی ادائیگی فوری طور پر عمل میں لائی جائے۔ 
 
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر دفتر اور ہر افسر کے پاس اپنی فریاد رکھی لیکن بدقسمتی سے جو یہ بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے درمیان ایک فاصلہ ہے اس سے ہم کافی پریشان ہیں اور ہماری بات کوئی نہیں سنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے جل جیون مشن کے تحت مختلف ترقیاتی اور پانی سے متعلق کام انجام دے رہے ہیں، تاہم ان کاموں کے عوض انہیں ابھی تک مکمل ادائیگیاں نہیں کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل تاخیر کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے کاروبار کے ساتھ ساتھ گھریلو اخراجات بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ 


انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بینکوں سے لون لیا ہے اور جل جیون مشن کے تحت مختلف اسکیموں پر کام کیا ہے اور اس وقت ہمارے پاس اپنا گھر چلانے کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جل جیون مشن کے مختلف کام مکمل کرنے کے لیے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کیے تھے۔ ان کے مطابق کام مکمل کرنے کے باوجود ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے اب ان کے لیے قرضوں کی اقساط ادا کرنا اور مسلسل بڑھتا ہوا سود برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 


انہوں نے ایل جی گورنر منوج سنہا اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ٹھیکیداروں کے دیرینہ مسائل کا ازالہ کریں اور اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن ملک ہندوستان کا فلیگ شپ (Flagship) پروگرام تھا اور ہم کو یہ امید نہیں تھی کہ ایک دن ہمارے ساتھ اس قسم کی ناانصافی ہوگی اور جو ہم نے محکمۂ جل شکتی کے دفتر کے پاس احتجاج کیا اس کا مقصد تھا کہ ان لوگوں نے ہی ہم کو مختلف کاموں کی الاٹمینٹ (Allotment) دی ہے اور اس لیے ہم یہاں پر جمع ہوئے ہیں۔