Surprise Me!

قالین کی بُنائی کے کشمیری روایتی کاریگروں کو کم مارجن کی وجہ سے زندہ رہنا مشکل

2026-08-19 2 Dailymotion

بارہمولہ، جموں وکشمیر (کوثر عرفات)

وادیٔ کشمیر کی بات کی جائے تو گزشتہ برسوں سے مختلف قسم کے فنکار ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنے کام سے کافی مشہور ہوئے ہیں اور ایسے میں اگر ہم روایتی قالین بنانے والے فنکاروں کی بات کریں تو وہ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر کے ملک ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں سے مختلف مسائل کی وجہ سے قالین بنانے والے فنکار کافی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی شمالی کشمیر کے ایک دور افتادہ علاقے وٹلب گاٹ سے وابستہ نذیر احمد ڈار کی ہے، جو اس فن کے ساتھ بچپن سے ہی کافی دلچسپی رکھتے تھے لیکن اب ان کے گھر کا گزارا کافی مشکل سے چل رہا ہے۔ 


ای ٹی وی بھارت کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نذیر احمد ڈار نے کہا کہ بیس سال پہلے سے قالین کا کام بہت اچھے سے چل رہا تھا لیکن 2014 کے بعد جب کشمیر میں سیلاب آیا تب سے ہم کافی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ اگرچہ سرکار کوشش کر رہی ہے کہ اس فن کو زندہ رکھا جائے لیکن اس کے باوجود ہم اس کام سے اپنی زندگی کی گزر بسر نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں ہم کو کم ریٹ ملتا ہے۔ جب کہ اس کام میں کافی محنت کرنی پڑتی ہے اور مشکل سے ہم ایک دن کا دو یا تین سو روپے ہی کما پاتے ہیں اور اس سے گھر کا گزارا کیسے جلے گا۔ 


نذیر احمد ڈار نے مزید کہا کہ میں نے آج تک کافی لوگوں کو یہ کام سکھایا ہے اور اس وقت بھی گاؤں کی کافی لڑکیاں میرے ساتھ یہ کام سیکھ رہی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ مشکلات ہونے کے باوجود بھی میں اس کام کو جاری رکھوں۔ کیونکہ صدیوں سے ہمارے بزرگوں نے اس کام کو زندہ رکھا ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کام کے ساتھ انصاف کریں۔ 
اس دوران ایک مقامی لڑکی عشرت کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہ کام گزشتہ دس سالوں سے کرتی آ رہی ہے اور اس کے مطابق ایک قالین بنانے میں کم سے کم سات یا آٹھ مہینے لگتے ہیں۔ عشرت کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ گاؤں کی اور بھی چند لڑکیاں ہیں جو اس کام کو ابھی بھی پسند کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہا ہے کہ ہم دن کا دو یا تین سو روپے ہی کما پاتے ہیں لیکن ہم اس میں بھی خوش ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سرکار اور متعلقہ محکمہ ہمارے ساتھ انصاف کرے اور اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے آنے والے وقت میں جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔